متاثرہ لوگوں میں ادھیڑ عمر کے زیادہ
99 مریضوں میں سے زیادہ تر ادھیڑ عمر کے تھے۔ ان میں 67 مرد تھے اور مریضوں کی اوسط عمر 56 سال تھی۔
تاہم تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والوں میں صنف کے تعلق سے زیادہ فرق نہیں ہے۔
چین
میں امراض پر قابو پانے اور روک تھام کے مرکز کا کہنا ہے کہ اوسطً چھ
مردوں کے مقابلے میں پانچ خواتین میں انفیکشن کی تشخیص ہوئی ہے۔
اس
فرق کی وضاحت کی جاسکتی ہے۔ یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ مرد کورونا
انفیکشن کی وجہ سے شدید بیمار ہوسکتے ہیں اور انھیں ہسپتال میں داخل کرنے
کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
معاشرتی اور ثقافتی وجوہات کی وجہ سے مردوں میں وائرس کی زد میں آنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
جنینٹان ہسپتال کے ڈاکٹر لی جانگ کہتے ہیں: 'کورونا وائرس کے انفیکشن کا
خطرہ خواتین میں کم ہے کیونکہ انھیں ایکس کروموزوم اور جنسی ہارمون کی وجہ
سے زیادہ قوت مدافعت حاصل ہے۔'
وہ لوگ جو پہلے سے بیمار تھے
99
مریضوں میں سے زیادہ تر لوگوں کو پہلے سے ہی کوئی نہ کوئی بیماری تھی۔ اسی
لیے ان میں کورونا سے متاثر ہونے کا ایک زیادہ خطرہ تھا۔
ڈاکٹر اسے کمزور قوت مدافعت کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
40
مریضوں کو دل کی کمزوری یا خون کی شریانوں کی پریشانی تھی۔ انھیں دل کی
بیماری تھی اور پہلے دل کا دورہ پڑ چـکا تھا۔ جبکہ 12 افراد ذیابیطس کے مرض
میں مبتلا تھے۔


0 Comments