نٹارکٹکا کے سوا دنیا کے تمام براعظموں میں کورونا وائرس پھیل چکا ہے۔ گو کہ اس وائرس کی سب سے پہلے تشخیص چین میں ہوئی لیکن اب پہلی بار یہ وائرس چین سے باہر دوسرے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے

بڑے شہروں میں لوگ گنجان علاقوں میں رہتے ہیں اور قریب قریب کام کرتے ہیں اور اسی لیے اس وائرس کا وباء کی صورت اختیار کرنے کا خطرہ ہے
اس ضمن میں نظر ڈالتے ہیں اُن مشکلات پر جن کا فی الوقت سامنا ہے اور دنیا بھر میں مختلف شہر کس طرح اس کا مقابلہ کر رہے ہیں
ایسے پروگرام جن میں بڑے مجمعے ہوں، مثلاً کھیلوں کے مقابلے، وہ وائرس پھیلنے کی وجہ بن سکتے ہیں اور یہ پروگرام کورونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں
وبا پھیلنے کی وجہ سے شنگھائی میں چائنیز فارمولا ون گراں پری ملتوی کردی گئی ہے۔ ایشیئن چیمپیئن لیگ کے چھ میچ التوا کا شکار ہیں جن میں 4 ایرانی ٹیمیں شامل ہیں۔ یورپ میں رگبی اور فٹبال کے میچ جن میں اٹلی سے تعلق رکھنے والی ٹیموں نے شامل ہونا تھا فی الحال روک دیے گئے ہیں۔
 اکستان میں 80 ہزار قیدیوں میں کسے رہا کیا جا سکتا ہے اور کیسے؟
آخر کورونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟
کورونا: انڈین پنجاب میں کورونا کا ’سپر سپریڈر‘ کون تھا؟
’پاکستان کو بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کرنے کی ضرورت ہے
پہلے سے بیمار افراد کورونا وائرس سے کیسے بچیں؟
مگر کھیلوں کی دنیا میں سب سے بڑی رکاوٹ آنے والے مہینوں میں ٹوکیو اولمپکس کی راہ میں ہے جن کا آغاز 24 جولائی کو ہونا ہے۔ اسی تناظر میں اولمپک سے پہلے ہونے والی ٹارچ ریلے یعنی اولمپک شمع کی منتقلی بھی بڑے پیمانے پر نہیں ہوئی۔
انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے کورونا وائرس کے عالمگیر وباء بننے کی صورت میں کھیلوں کو منسوخ کرنے کے خیال کو رد نہیں کیا ہے۔
کھیلوں کے علاوہ مذہبی اجتماعات بھی پابندیوں کا شکار ہوئے ہیں۔ سعودی عرب نے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں میں غیر ملکی زائرین کی آمد پر پابندی لگا دی ہے۔