ملائیشیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ
کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے دوران صرف ’گھر کے
سربراہ‘ کو سودا سلف کی خریداری کے لیے باہر جانے کی اجازت دینے کے فیصلے
کے کچھ غیر متوقع نتائج سامنے آئے ہیں
کچھ مردوں پر گھر کا سودا سلف
خریدنے کی ذمہ داری لاد دی گئی ہے اور وہ اچانک ہی اپنے آپ کو سبزیوں،
مصالحوں اور جڑی بوٹیوں کی ایک عجیب سی دنیا میں پا رہے ہیں۔
حکومت
کے اس فیصلے کے بعد ایک خاتون نے طنزیہ انداز میں ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے
کہا ’حکومت کی جانب سے ایک مرد کو اکیلے گھریلو اشیا کی خریداری کرنے کی
اجازت؟ تباہی!‘
اور تو اور، متعدد مردوں نے سوشل میڈیا پر اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے اس رائے سے اتفاق کیا۔
ملائیشیا کی ایک سپر مارکیٹ میں شاپنگ لسٹ کو غور سے پڑھتے تین مردوں کی ایک فیس بک پوسٹ کو 30،000 سے زیادہ بار شیئر کیا گیا ہے۔
پوسٹ
لگانے والے مظفر رحمان کا کہنا ہے کہ اکیلے مرد کا گھریلو اشیا کی خریداری
کرنا کسی ’خزانے کی تلاش‘ کی طرح محسوس ہوتا ہے اور ہر شخص اپنی فہرست کو
متعدد بار چیک کرتا ہے
کورونا وائرس: غلط معلومات کو وائرل ہونے سے کیسے روکا جائے
ے میں آپ کے سوال اور ان کے جواب
کورونا وائرس: آپ کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں
کورونا کے بارکیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کورونا کا شکار ہو سکتے ہیں
کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے
کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟



0 Comments