کورونا وائرس کو ایک عالمی وبا قرار دیا جا چکا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
لیکن ایک نیا وائرس، جو صرف کچھ ماہ قبل رونما ہوا، سے نمٹنے کے لیے بہترین حکمت عملی کیا ہے؟
اس
حوالے سے چین کے کچھ اقدامات سے سبق حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چین کے صوبے
ہوبائی سے اس وبا کا آغاز ہوا تھا لیکن اب وہاں حالات کچھ حد تک قابو میں
لگ رہے ہیں۔
کورونا وائرس: تحقیق، تشخیص اور احتیاط، بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج
کورونا وائرس: آپ کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟
کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟
کورونا وائرس: پاکستان اس سے بچاؤ کے لیے کتنا تیار ہے؟
چین اپنے شہریوں کی زندگیوں پر گہری نظر رکھتا ہے اور اس نے اپنے وسائل تیزی سے استعمال کیے ہیں۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 10 روز میں تعمیر ہونے والا ہسپتال بھی قابلِ ذکر ہے۔
چین میں ریاستی کنٹرول زیادہ ہے اور یہ دیگر ملکوں سے مختلف ہے۔ تو کیا باقی دنیا چین کی حکمت عملی کی پیروی کر سکتی ہے؟
کیا مشکل وقت گزر گیا؟
10
مارچ کو صدر شی جن پنگ نے چین کے اس علاقے کا دورہ کیا جو کورونا وائرس کا
مرکز سمجھا جاتا تھا۔ خیال ہے کہ اس دورے سے چین کے سب سے طاقتور شخص نے
یہ نشاندہی کی ہے کہ بد ترین قومی ایمرجنسی ختم ہو چکی ہے۔
وبا کے
آغاز سے چینی حکومت نے لوگوں کی صحت سے متعلق بے مثال اقدامات کیے۔ انھوں
نے پورا ہوبائی صوبہ بند کر دیا اور عارضی صحت کے مراکز قائم کیے تاکہ
مریضوں کا جلد از جلد علاج ممکن ہو سکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کے نئے مریضوں میں کمی آئی ہے اور اب ہر روز صرف چند نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔



1 Comments
yar ye cheez to mujhe achi ligi hae
ReplyDelete